Pages

Sunday, 28 June 2015

پرانی باتیں


آج میں ایک فلم دیکھ رہا تھا۔ ایک غریب نوجوان۔ ایک نسبتاً امیر گھرانے کی لڑکی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں سرشار۔ لڑکی کا باپ حسبِ عادت سیخ پا۔ سب کچھ وہی تھا۔ روایتی فنکار۔ روایتی ماحول۔ روایتی کشمکش۔ روایتی جملہ بازیاں۔ مگر ایک بات نے مجھے چونکا دیا۔
لڑکی کا باپ مستقبل کے دولہا میاں کی بابت کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کر رہا تھا کہ اس کے پاس پھوٹی کوڑی تک تو ہے نہیں۔ برسات میں وہ ایک دن چھوڑ کے نوکری پر جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس صرف ایک جانگیا ہے جسے سوکھنے میں رومان انگیز گھٹاؤں کے طفیل ایک دن لگ جاتا ہے۔ وہ اتنی نازوں پلی بٹیا کو کیسے خوش رکھے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ مکالمہ ناٹک کی تاریخ کا شاید روایتی ترین مکالمہ ہے۔ اور یہی چیز میری حیرت کا باعث ہے۔ انسان کتنا کم سیکھتا ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاریوں کے معاشرتی تجربات آج تک ہمیں یہ نہیں سکھا سکے کہ مسرت، اطمینان اور سکون دولت مند داماد کی جاگیر نہیں ہیں۔ ہماری بہنوں بیٹیوں کے لیے پرسکون زندگیوں کی ضمانت پیسا نہیں دے سکتا۔ شاندار بنگلے شاندار انسانوں سے زیادہ قابلِ قدر نہیں۔ اے سی دل ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔ کار سوچوں کے فاصلے کم نہیں کر سکتی۔ روپیہ وفا نہیں خرید سکتا۔ اور شاید تعلیم بھی آپ کو دانا نہیں بنا سکتی۔ آخری بات کا واضح ترین ثبوت تو اکیسویں صدی کے وہی پڑھے لکھے والدین ہیں جو اولاد کے لیے جذباتی سکون کی بجائے معاشی تحفظ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
صاحبو، جہاں تک میں سمجھا ہوں انسان کی پرمسرت زندگی کا صرف ایک راز ہے۔ محبت!
محبت ہو تو دولت سکون دیتی ہے۔ تعلیم دانائی سکھاتی ہے۔ اولاد نورِ چشم بنتی ہے۔ جائیداد صدقہءِ جاریہ میں بدل جاتی ہے۔ غربت رنج نہیں پہنچاتی۔ بے اولادی روگ نہیں بنتی۔ دشمن کمزور ہو جاتے ہیں۔ حماقتیں معصوم لگتی ہیں۔ زندگی گوارا ہوجاتی ہے۔ اور یہ نہ ہو تو سب الٹ جاتا ہے۔ جیون اجیرن ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے میڈم نور جہاں اتنا 
مکمل تحریر اور تبصرے>>